نئی دہلی،27؍فروری(ایس او نیوز؍ایجنسی) کسان تحریک پر مرکزی حکومت کے رویہ پر تنقید کرتے ہوئے سابق وزیر مالیات پی چدمبرم نے ہفتہ کے روز کہا کہ مندی کے دور میں بھی شعبہ زراعت میں 3.9 فیصد شرح ترقی ممکن بنانے والے کسانوں کے ساتھ نریندر مودی حکومت اس طرح کا سلوک کر رہی ہے گویا وہ ملک کے دشمن ہوں! سابق وزیر نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ وزیر اعظم مودی کیرالہ اور آسام تو جا سکتے ہیں لیکن 20 کلومیٹر کے فاصلہ پر بیٹھے کسانوں سے ملاقات کرنے نہیں جا سکتے۔
انہوں نے ٹوئٹ کیا، "کساد بازاری کے سال میں بھی زراعت کے شعبے میں 3.9 فیصد شرح ترقی کا انعام کسانوں کو اس طرح دیا جا رہا ہے، گویا وہ ریاست کے دشمن ہوں۔ وزیر اعظم کیرالہ سے آسام تک جاتے ہیں لیکن دہلی کی سرحد پر بیٹھے کسانوں سے ملاقات کرنے کے لئے ان کے پاس 20 کلومیٹر سفر کرنے کا وقت نہیں ہے۔"
ایک دوسرے ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ "پھر بھی وہ دعویٰ کریں گے کہ انہوں نے کسانوں کی آمدنی کو دوگنی کر دی ہے۔ وہ یہ بھی دعوی کریں گے کہ تمام کسانوں کو ایم ایس پی کا فائدہ حاصل ہو رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف 6 فیصد کسان ایم ایس پی پر اپنی فصل فروخت کرتے ہیں۔"
اس سے قبل پیر کے روز کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے الزام لگایا تھا کہ مرکزی حکومت کے ذریعہ منظور کردہ تین نئے زرعی قوانین کاشتکاری کو ختم کرنے اور اسے وزیر اعظم نریندر مودی کے "دوستوں" کے حوالے کرنے کے لئے ڈیزائن کیے گئے تھے۔